26 دسمبر، 2013

شمسی طوفانوں کی پیش گوئی کا نظام

برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے عنقریب، خلاء کے موسم کی پیشگوئی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چوبیس گھنٹوں کی اِس پیشگوئی کے ذریعے، شمسی طوفانوں پر نظر رکھی جائے گی جو کرۂ ارض کےمواصلاتی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
خلاء کا موسم شمسی ذرات پر مشتمل ہوتا ہے جن میں جمع توانائی شمسی طوفان پیدا کرتی ہے۔ سورج کی سطح پر، ہر وقت شعلے اٹھتے رہتے ہیں۔ جب اِن میں انتہائی زیادہ توانائی جمع ہو جاتی ہے تو یہ سورج سے چھوٹ کر خلاء میں بکھرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اِن زرات پر مشتمل گیس کی مقدار اربوں ٹن اور اِن کی رفتار دسیوں لاکھ کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔
ہر گیارہ سال بعد، سورج پر شعلے پیدا ہونے کا عمل عروج پر پہنچتا ہے۔ یہی وہ دورانیہ ہوتا ہے جب شمسی طوفان زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔
ستمبر اٹھارہ سو انسٹھ کا شمسی طوفان انسانی تاریخ کا بدترین طوفان تھا جس سے جنگلوں میں آگ لگ گئی تھی
خلاء میں شمسی ذرات کے اتار چڑھاؤ کے مطالعے کے لیے ہی، برطانیہ کے محکمۂ موسمیات نے اِن کی پیشگوئی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ خلاء میں موجود مصنوعی سیارے، کرۂ ارض کے مواصلاتی نظام کو چلاتے ہیں۔ وہ ہِلیں تو کرۂ ارض کے موبائل فون، ٹی وی، ریڈیو سب میں خلل پڑ سکتا ہے۔ بجلی کے نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ غرض ہر وہ شے، جو کرۂ ارض کے مقناطیسی نظام کی محتاج ہے، اُسے، سورج سے آنے والے ذرات کا طاقتور طوفان، سبوتاژ کر سکتا
انیس سو چورانوے کے شمسی طوفان نے دو مصنوعی سیاروں میں خرابیاں پیدا کردیں تھیں اور کینیڈا میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن بند ہو گئےتھے۔ مارچ انیس سو نواسی کے شمسی طوفان نے بھی کینیڈا کے وسیع علاقے میں بجلی کی ترسیل میں خلل ڈال دیا تھا۔ لیکن ستمبر اٹھارہ سو انسٹھ کا شمسی طوفان انسانی تاریخ کی بدترین یادوں میں سے ایک ہے۔ کارِنگٹن ایونٹ کہلانے والے اِس شمسی طوفان نے ٹیلی گراف کا نظام درہم برہم کر دیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے جنگلوں میں آگ لگا دی۔
اُس وقت جب انسانیت کا انحصار ٹیکنالوجی پر اتنا نہیں تھا جتنا دورِ حاضر میں ہے۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے دو ہزار آٹھ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک طاقتور شمسی طوفان، کرۂ ارض کے مواصلاتی نظام کو دو کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ دنیا بھر میں انتشار پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
برطانیہ کے محکمۂ موسمیات کے مطابق، آئندہ چند ماہ میں، خلائی موسم کی پیشگوئی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں، جب سورج کی حدت، گیارہویں سال کے عروج پر ہے اور خدشات ہیں کہ یہ حدت، نئے سال میں کسی بھی وقت، شمسی طوفان پیدا کر سکتی ہے۔
ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں