20 دسمبر، 2013

بنگلا دیش کے انتخابات :مظاہروں کے پیش نظرہزاروں فوجی تعینات

 
ڈھاکا…بنگلاد یش میں انتخابات میں مظاہروں کے پیش نظر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ بنگلادیشی حکام نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلا دیش میں 5جنوری کے انتخابات میں مظاہروں کے پیش نظر ہزاروں فوجی تعینات کردیے گئے ہیں۔

ہوا سے چلنے والی نایاب کار

ہوا کی طاقت سے چلنے والے انجن سے لیس اور لیگو سے بنی ایک کار اب آپ آسٹریلوی شہر ملبرن کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں۔
ایک آسٹریلوی تاجر اور رومینیا کے تکنیکشن کی تیار کردہ، 500000 لیگو پیسز کی بنی یہ کار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار تک پہنچ سکتی ہےعام لوگوں کی جانب سے مالی امداد کی مدد سے کیے گئے اس پروجیکٹ کا آغاز ایک ٹوئیٹ پر لوگوں سے ’ایک زبردست پروجیکٹ‘ سرمایہ کاری درخواست سے کیا گیا تھا۔
اس کار میں ہوا کے زور پر چلنے والے چار انجن لگے ہیں جن میں 256 پسٹن ہیں۔ اس کار میں سثائے پیوں کے ہر چیز لیگو سے بنی ہے۔
اس کار کے شریک موجد سٹیو سمارٹینو نے بی بی سی کو بتایا کہ نہ تو وہ گاڑیوں کا شوق رکھتے ہیں اور نہ ہی لیگو کا۔
وہ کہتے ہیں ’مجھے ٹیکنالوجی کا شوق ہے اور میں یہ دیکھانا چاہتا تھا کہ جب آپ ڈہین نوجوانوں اور عوامی مالی امداد سے کام کرتے ہیں تو کیا کیا ممکن ہے۔میں ایک پاگل سے رومینیا کے نوجوان سے انٹرنیٹ پر ملا جس کا یہ آئیڈیا تھا۔ مگر میں جانتا تھا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں خود یہ کر سکوں۔ ایک رات اس نے ٹوئیٹ بھیجی کہ کیا کوئی ایسے پروجیکٹ میں 500 سے 1000 ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جو بہت زبردست بھی ہے اور نایاب بھی۔‘
’یہ کار رومینیا میں تیار کی گئی اور پھر اسے آسٹریلیا بھیجا گیا جہاں اس کے بہت سے حصہوں کو دوبارہ بنانا پڑا۔‘
اس کے جواب میں 40 آسٹریلوی شہریوں نے امداد کی حامی بھری اور یہ پرواجیکٹ شروع ہو گیا۔
سمارٹینو نے بتایا کہ اس کار کو بنانے میں 18 ماہ لگے۔
’یہ کار رومینیا میں تیار کی گئی اور پھر اسے آسٹریلیا بھیجا گیا جہاں اس کے بہت سے حصہوں کو دوبارہ بنانا پڑا۔‘
ہم نے ملبرن کے ایک مضافاتی علاقے میں اسے چلایا ہے۔ اس کا انجن انتہائی نازک ہے اور ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کہیں اس کے پھٹنے سے ایک لیگو دھماکہ نہ ہو جائے۔
ابھی تک کو سمارٹینو کے ایسے مزید گاڑیاں بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
’گذشتہ چار ہفتے سے میں لیگو پیسز میں ڈوبا ہوا تھا اور میری انگلیوں میں اتنا درد ہے کہ میں ایک کار بنانے کا ابھی تو سوچ بھی نہیں سکتا۔‘
آٹو کار میگزین کے میٹ سانڈرز کہتے ہیں کہ ’یہ چیز بنانا ہی آسان نہیں، اسے چلانا تو دور کی بات ہے۔ اس کے اجن کے لیے کوئی زبردست تخلیاتی عمل کیا گیا ہوگا۔ تاہم یہ زیادہ آرام دے یا دور تک سفر کرنے والی کار معلوم نہیں ہوتی۔‘

لندن: اپالوتھیٹرکی بالکنی کاایک حصہ گرگیا، 88افراد زخمی

لندن…لندن میں اپالوتھیٹرکی بالکنی کاایک حصہ گرنے سے 88افراد زخمی ہوگئے، کئی زخمیوں کو ڈبل ڈیکر بسو ں پر اسپتال پہنچایا گیا۔ لندن کے علاقے شافٹسبری میں واقع اپالو تھیٹر کا شمار لندن کے قدیم ترین تھیٹروں میں ہوتا ہے۔ یہاں 1901 سے ڈرامے پیش کیے جارہے ہیں اور ہر رات سیکڑوں افراد یہاں آتے ہیں۔ جمعرات کی شب بھی تھیٹر میں ”دی کیوریئس انسیڈنٹ آف دی ڈاگ ان دی نائٹ ٹائم“ ڈراما پیش کیا جارہا تھا کہ رات تقریباً سوا آٹھ بجے داخلی بالکنی کا ایک حصہ دھماکے سے نیچے آگرا۔ حادثے کے وقت تھیٹر میں سات سو سے زائد افراد موجود تھے۔ بالکنی گرتے ہی ہر طرف دھول اور مٹی پھیل گئی اور افراتفری مچ گئی۔ لوگ جان بچانے کے لیے تھیٹر سے باہر کی طرف بھاگنے لگے۔ واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ کئی زخمیوں کو ڈبل ڈیکر بسوں پر اسپتال پہنچایا گیا، بعد میں ایئرایمبولین بھی لائی گئی۔پانچ زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے پہلے علاقے میں شدید بارش ہوئی تھی تاہم حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

انوکھا مذاق ،سوٹ کیس میں بند کرکے دوستوں نے درگت بنا دی

لندن…این جی ٹی…یوں تو آپ نے کئی دوستوں کوآپس میں تفریح کرتے دیکھا ہوگا لیکن بعض اوقات یہ تفریح بے حد مہنگی بھی پڑ جاتی ہے جیسا کہ اس نوجوان کے ساتھ ہوا۔ان تینوں دوستوں کو اپنے ایک دوست کے ساتھ ایک انوکھا مذاق سوجھا اور انہوں نے بیچارے کو سوٹ کیس میں بند کر کے ٹرپمیولین پر پہنچا دیا۔ارے جناب بس اتنا ہی نہیں بلکہ سوٹ کیس میں بند دوست کی تو آج کم بختی ہی آ گئی جسے ٹرمپولین پر پھینکنے کے بعد یہ تینوں بھی ٹرمپیولین پر پہنچے اور جمپنگ کرتے ہوئے بیچارے کو جب تک نیچے نہیں گِرا دیا رکنے کا نام نہ لیا۔دوست کے اعتماد کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے یہ تینوں دوست اب نہ جانے کس بات کا بدلہ لے رہے ہیں جو سوٹ کیس میں بند دوست کو ٹرمپولین سے نیچے گِرا کر اتنا خوش ہوئے کہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے

کراچی میں پرانی سبزی منڈی کے قریب دھماکا، ایس ایچ او ماڑی پور سمیت 2 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

کراچی: پرانی سبزی منڈی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی سمیت 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی گاڑی میں پولیس اسکواڈ کے ساتھ اپنی رہائش گاہ کی جانب جارہے تھے کہ دہشت گردوں نے پرانی سبزی منڈی کے قریب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں  وہ موقع پر ہی جاں بحق اور ان کی گاڑی  تباہ ہوگئی، دھماکا انتہائی زوردار تھا جس کی آواز گلشن اقبال، ناظم آباد، گلبہار اور گارڈن تک سنائی دی جبکہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ امدادی ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 2 سے 3 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیئرنگز بھی موجود تھے۔
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پرانی سبزی منڈی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

روس نے پہلی روبوٹک ٹی وی پریزنٹر متعارف کروادی

ماسکو…اب روبوٹ انسانوں کے انٹرویو کرتے نظر آئینگے،روس نے پہلی روبوٹک ٹی وی پریزنٹر متعارف کروادی۔جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر میدان میں روبوٹ انتہائی تیزی سے انسانوں کی جگہ لیتے نظر آرہے ہیں۔ روبوٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے روس میں پہلی بار روبوٹک ٹی وی پریزنٹر متعارف کروادی گئی ہے۔ٹیوما ارمن نامی پریزنٹر کی روبوٹک کاپی نہ صرف اپنا سر مکمل طور پر ہلانے جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ بھنوئیں اْچکاتی بھی نظر آتی ہے۔اس نئی ایجاد کے بعد اب وہ وقت دور نہیں جب ٹی وی پر روبوٹ ہی انسانوں کے انٹرویو کرتے نظر آئیں گے۔

آسٹریلیا کے چڑیا گھر میں موج مستی کا میلہ

سڈنی …کرسمس آنے میں ویسے تو ابھی کچھ دن باقی ہیں لیکن آسٹریلیا میں کرسمس سے پہلے ہی تحفوں کی برسات ہوگئی۔سڈنی کے چڑیا گھر میں کرسمس سے پہلے ہی کرسمس کا میلہ سج گیا ہے اور جہاں من پسند چیزیں ہوں اور موج مستی کا بھی بھرپور انتظام ہو تو کس کا دل نہیں للچائے گا۔جانوروں نے کرسمس کی ایڈوانس دعوت کو خوب انجوائے کیا اور تحفوں میں ملنے والی اپنی من پسند چیزوں کے مزے اڑائے

پاکستان کا مظاہرین کی دھمکیوں کے بعد بنگلا دیش سے سفارتی عملے کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ

ڈھاکا: بنگلادیش میں مظاہرین کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے اور عمارت کو نقصان پہنچانے کی دھمکی کے بعد پاکستان نے ہائی کمیشن کی سیکورٹی بڑھانے کے لیے بنگلادیشی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت کے باہر آج تیسرے روز بھی احتجاج کاسلسلہ جاری رہا۔ عوامی لیگ کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جانب سے بنگلا دیشیوں کےدلوں میں پاکستان کےخلاف نفرت کی جوچنگاری سلگائی گئی تھی اس کی آگ آج پورے ملک میں بھڑک رہی ہے اور مظاہرین کےحوصلےاتنےبڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی ہائی کمشن کوگھیرے میں لےکرمطالبہ کیاہےکہ 20 گھنٹےمیں پاکستان کےساتھ سفارتی تعلقات ختم کئےجائیں۔ ایسانہ کرنےکی صورت میں مظاہرین نے ہائی کمیشن کی عمارت کو نقصان پہنچانےکی کھلی دھمکی دے دی ہے۔
پاکستانی ہائی کمیشن نے بنگلا دیشی حکومت سے تحریری درخواست میں کہا ہے کہ سفارت کاروں کواضافی سیکیورٹی دی جائے جب کہ دفترخارجہ نے پاکستانی سفارت کاروں کوڈھاکا میں غیرضروری سفرکرنےسےبھی روک دیا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے متنازع نام نہاد ٹربیونل کے حکم پر 1971 میں پاکستان کی حمایت کرنے کی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے رہنما ملا عبدالقادر کو پھانسی دے دی گئی تھی جس کے خلاف پاکستانی قومی اسمبلی میں قرار داد منظور کی گئی  تاہم اس قرار داد کے خلاف بنگلا دیش کے دفترخارجہ خارجہ نے نہ صرف پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا بلکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے  زہر اگلتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حمایت کرنے والوں کی ان کے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔

سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2013ء منظور


کراچی…سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2013ء منظور کرلیا گیا۔لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل اپوزیشن اراکین کی غیرموجودگی میں منظورکیاگیا۔ اس سے قبل اپوزیشن اراکین نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل مستردکردیا اور اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا۔سندھ اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن کے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے، پیپلزپارٹی نے اسمبلی کے ہال میں اور اپوزیشن نے اسمبلی ہال کے باہر اجلاس کیا۔ اسمبلی کے اندر اجلاس میں صرف پیپلزپارٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اپوزیشن اراکین کی غیرحاضری میں سندھ اسمبلی کی کارروائی جاری رکھی گئی اور اپوزیشن کی غیرموجودگی میں حکومتی اراکین نے قانون سازی کی۔ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2013پرسندھ اسمبلی میں حکومتی اراکین نے بحث کی۔صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اسمبلی میں واپس آئیں اوربل پربحث کریں،سکندر میندرو لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل2013 کی شقیں پڑھیں۔