9 دسمبر، 2013

آخر سونا ہی اتنا اہم اور قیمتی کیوں ہے؟


 پیریاڈک ٹیبل میں سونا واحد عنصر ہے جسے ہم انسانوں نے ہمیشہ کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے
 
انسان کی سونے سے رغبت بہت عجیب و غریب ہے۔ کیمیائی طور پر یہ بہت غیر دلچسپ دھات ہے اور دوسرے عنصر کے ساتھ کم ہی ردِعمل دکھاتی ہے۔
تاہم دوری جدول (پیریاڈک ٹیبل) میں سونا واحد عنصر ہے جسے انسانوں نے ہمیشہ کرنسی کے طور پر استعمال کرنے کو ترجیح دی ہے۔
 مگر ایسا کیوں ہے دوسرے عناصر، مثلاً اوسموسیم، کرومیم یا ہیلیم یا سیبورگیم کی اتنی قدر کیوں نہیں ہے؟

میں یہ سوال کرنے والا پہلا شخص نہیں مگر میں یہ سوال دنیا کی اہم ترین جگہ سے کر رہا ہوں اور وہ ہے کولمبین دور سے پہلے کے سونے کے نودارات کی نمائش کے موقعے پر لندن کے برٹش میوزیم میں۔
یہاں میری ملاقات ہوئی انڈریا سٹیلا سے جو یونیورسٹی کالج لندن میں کیمیا کی پروفیسر ہیں جنھوں نے پیریاڈک ٹیبل کی ایک کاپی نکال کر مجھے دکھائی۔
انھوں نے ٹیبل کے دائیں جانب اشارہ کر کے مجھے بتایا کہ اس میں بعض عناصر ایسے ہیں جو آسانی سے مسترد کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ گیس کو کرنسی کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے اور آخر کیسے لوگ گیس کے تھیلے اٹھائے پھریں گے؟ اوپر سے یہ بے رنگ ہوتی ہیں تو آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ کیا ہے؟
اسی طرح برومیم اور مرکری جیسے کچھ عناصر ایسے ہیں جو بے حد زہریلے ہیں، اس لیے انھیں بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح آپ آرسینک اور دوسرے کئی عناصر کو بھی اسی طرح ایک جانب کر سکتے ہیں۔

اب اگر ٹیبل کے دوسری جانب دیکھیں تو سٹیلا کے مطابق اس پر موجود کئی عناصر کو بھی مسترد کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سٹیلا کا کہنا ہے کہ ’الکلائن دھاتیں اور الکائن زمینی دھاتیں بہت زیادہ ردِعمل دکھاتی ہیں۔ بہت سارے لوگوں کو یاد ہو گا جب سکول کے زمانے میں سوڈیم اور پوٹاشیم کو پانی کی ٹرے میں گراتے ہیں تو یہ بھاپ بن کر اڑ جاتے ہیں اور پھٹ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دھماکہ خیز کرنسی کوئی اچھی چیز نہیں ہے
اسی طرح کی بات تابکار عناصر کے بارے میں کیونکہ آپ نہیں چاہیں گے کہ آپ کی دولت آپ کو کینسر دے دے۔
اس وجہ سے بہت سارے عناصر اس دوڑ میں سے باہر نکل جاتے ہیں۔
اس کے بعد ایسے عناصر ہیں جو سونے کی نسبت کم ہی تعامل کرتے ہیں مگر انھیں ایک دوسرے سے کیمیائی طور پر علیحدہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اس طرح آپ کو پتا نہیں چلے گا کہ آپ کی جیب میں کیا ہے۔
اس کے بعد ہمارے پاس باقی بچتے ہیں 49 عناصر جن میں لوہا، ایلومینیئم، تانبا، سیسہ، اور چاندی ہیں۔ اگر آپ ان سب کا جائزہ لیں تو تقریباً سب میں کچھ نا کچھ نقائص ہیں۔

ایک جانب ہمارے پاس پائیدار اور سخت عناصر ہیں بائیں جانب جن میں مثال کے طور پر ٹائٹینیئم اور زرکونیئم ہیں۔
یہاں مسئلہ آتا ہے کہ انھیں ان کی بنیادی مادے سے علیحدہ کرنے کے لیے آپ کو ایک ہزار درجہ سنٹی گریڈ تک گرم کرنا پڑتا ہے مگر زمانۂ قدیم میں اس سطح تک کا درجۂ حرارت حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔
ایلومینیئم کو بھی علیحدہ کرنا مشکل تھا اور اس کے سکے بہت کمزور بنتے ہیں۔ اس کیمیائی گروپ کے دوسرے عناصر مستحکم نہیں ہیں کیونکہ یہ پانی اور ہوا کا سامنا کرنے پر زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔
لوہا مثال کے طور پر بہترین ہو سکتا ہے مگر اسے زنگ لگ سکتا ہے۔

پھر اس کے بعد کیا بچتا ہے؟

  اب اس میں سے صرف118 آٹھ عناصر باقی بچتے ہیں جن میں پلاٹینیئم، پیلیڈیئم، روڈیم، اریڈیم، اوسمیم اور روتھینیئم ہیں اور اس کے ساتھ سونا اور چاندی۔
انھیں ’نوبل‘ دھاتیں کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دوسری دھاتوں کے ساتھ بہت کم تعامل کرتی ہیں اور یہ بہت کم دستیاب ہوتی ہیں جو کرنسی کے لیے اہم خاصیت ہے۔
لوہا بہت زیادہ پایا جاتا ہے تو اگر اس کے زنگ لگنے کو رد کر بھی دیا جائے تو پھر بھی یہ کرنسی کے لیے موزوں نہیں ہے اور آپ کو اس کی زیادتی کی بنا پر بہت بڑے بڑے سکے چاہیے ہوں گے۔

اب اس کے مقابلے میں ان آٹھ دھاتوں میں سے باقی اتنی کمیاب ہیں کہ آپ کو اس کے برعکس مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپ کو سکے بہت چھوٹے چھوٹے بنانے پڑیں گے جنہیں آپ آسانی سے گم کر سکتے ہیں۔
انھیں نکالنا اور حاصل کرنا بھی مشکل ہے جیسا کہ پلاٹینیئم کا پگھلنے کا درجہ حرارت 1768 ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔

 
بالآخر دو دھاتیں باقی بچتی ہیں اور وہ ہیں سونا اور چاندی۔
دونوں کم پائی جاتی ہیں مگر انتہائی کمیاب نہیں ہیں اور دونوں کا پگھلنے کا درجۂ حرارت کم ہے، اس لیے انھیں آسانی سے زیورات اور سکوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم چاندی ہوا میں سلفر کے ساتھ تعامل کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اب باقی بچا سونا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سونا اس لیے قیمتی ہے کیونکہ یہ کیمیائی طور پر انتہائی غیر دلچسپ دھات ہے۔
سونے کا کمال یہ ہے کہ آپ اس کا ایک چیتا بنائیں تو آپ کو اعتماد ہو گا کہ ایک ہزار سال بعد بھی یہ بہترین حالت میں لندن کے ایک میوزیم میں نمائش کے لیے مل سکے گا۔
تو سونے کے اندر وہ تمام تر خصوصیات ہیں جو کسی کرنسی میں پائی جا سکتی ہیں۔ یہ خاصا نایاب بلکہ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ دنیا میں کس قدر سونا پایا جاتا ہے۔

اگر آپ دنیا میں ہر کان کی بالی، ہر سونے کا سکہ، کمپیوٹر کی چپ میں موجود سونے کا چھوٹا سا زرہ، کولمبین دور سے قبل کا ہر مجسمہ اور ہر شادی کی انگوٹھی جمع کریں اور اسے پگھلا لیں تو یہ بیس میٹر کا صرف مکعب بنے گا۔
مگر سونے کو یہ تمام خصوصیات ہی ممتاز نہیں کرتیں، بلکہ اس میں ایک اور خصوصیت ہے جو اسے دوسرے عناصر سے ممتاز بناتی ہے۔ وہ ہے اس کا سنہرا رنگ۔
سونے کی کامیابی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ناقابلِ یقین حد تک خوبصورت ہے۔

سونے کو اب کیوں کرنسی کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا؟

جب 1973میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے امریکی ڈالر کا سونے سے تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
نکسن کے اس فیصلے کے پیچھے ایک ہی سادہ وجہ کارفرما تھی اور وہ یہ کہ امریکہ کے پاس ضروری سونا ختم ہونا شروع ہو گیا تھا جو اسے ڈالر شائع کرنے کے لیے زرِ ضمانت کے طور پر رکھنا ہوتا تھا۔
اب یہاں ایک اور مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ سونے کا معیشت کے ساتھ تعلق نہیں بلکہ اس کا رشتہ کان کنی سے ہے کہ کتنا سونا نکالا جا سکتا ہے۔
16ویں صدی میں جنوبی افریقہ کی دریافت اور پھر جنوبی افریقہ میں سونے کے وسیع ذخائر کی دریافت سے سونے کی مالیت میں بہت کمی واقع ہوئی اور ہر دوسری چیز مہنگی ہو گئی۔
سونے کی مانگ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ 2001 میں سونے کے ایک اونس کی قیمت 260 امریکی ڈالر سے بڑھ کر ستمبر 2011 میں 1921 ڈالر کے قریب پہنچ گئی جس کےبعد گر کر یہ 1230 کی موجودہ قیمت پر پہنچ گئی۔
ظاہر ہے کہ یہ اتار چڑھاؤ کسی مثالی کرنسی کی نشانی نہیں ہے۔
شاید اسی لیے چرچل نے کہا تھا کہ تمام عناصر میں سے سونا بدترین کرنسی ہے۔

Chocolate-Dipped Orange Cookies Recipe

Directions


  1. In a large bowl, cream the butter, cream cheese and sugar until light and fluffy. Beat in vanilla and orange peel. Combine the flour and salt; gradually add to creamed mixture and mix well. Stir in almonds.
  2. Roll into 1-in. balls. Place 2 in. apart on ungreased baking sheets. Flatten with a glass dipped in sugar. Bake at 325° for 20-25 minutes or until firm. Remove to wire racks to cool.
  3. For glaze, in a microwave, melt chocolate and butter; stir until smooth. Dip each cookie halfway into chocolate; allow excess to drip off. Immediately sprinkle with almonds. Place on waxed paper until set. Yield: 6 dozen

Ingredients


  • 1 cup butter, softened
  • 1 package (8 ounces) PHILADELPHIA® Cream Cheese, softened
  • 1 cup sugar
  • 1/2 teaspoon vanilla extract
  • 2 tablespoons grated orange peel
  • 2-1/2 cups all-purpose flour
  • 1/2 teaspoon salt
  • 1 cup finely chopped blanched almonds

  • GLAZE:
  • 5 ounces semisweet chocolate, chopped
  • 3 tablespoons butter
  • 1/4 cup finely chopped blanched almond

US courts asked to recognize chimps as people

NEW YORK: Walking, talking chimpanzees may be TV comedy gold but now three courts in New York are being asked to recognize four chimps as "legal persons" with fundamental rights.
The move would allow the animals to be released into sanctuaries where they could live out the reminder of their days in freedom, says the Nonhuman Rights Project behind the initiative.
On Monday it petitioned a court in Fulton County Court, New York State, in the name of
Tommy, a chimpanzee held captive in a cage at a used trailer lot in nearby Gloversville. On Tuesday it did the same for Kiko, a 26-year-old chimpanzee who is deaf and living in a private home in Niagara Falls.
The group will Thursday lodge a similar petition on behalf of Hercules and Leo, who are owned by a research center and used in locomotion experiments on Long Island.
"The lawsuits ask the judge to grant the chimpanzees the right to bodily liberty and to order that they be moved to a sanctuary," the organization said in a statement.There the animals can live out their days in an environment as close to the wild as is possible in North America, it added.The challenge is based on the principle of habeas corpus, which the
petitioners said was used in New York and allowed slaves to challenge their status and establish their right to freedom.
Under habeas corpus, a person being held captive can petition a judge to have the captors explain why they think they have the right to hold that person. "Our legal petitions and memoranda, along with affidavits from some of the world´s most respected scientists, lay out a clear case as to why these cognitively complex, autonomous beings have the basic legal right to not be imprisoned," the statement added.
The courts can decide whether or not to take up the petitions but if they refuse the organization has the right of appeal. The Nonhuman Rights Project works to change the common law status of at least some animals to "persons" who possess fundamental rights
such as bodily integrity and bodily liberty.
The organization´s web site features what it calls bios of the four chimps at the center of the lawsuit.It said that the day its investigators visited the chimp named Tommy, the temperature in the shed was about 40 degrees below what it would be in his native land. "The only company he had was a TV that was left on for him at the other side of the shed," the organization said.
As for the one called Kiko, the Nonhuman Rights Project said he is partially or totally deaf because of abuse he suffered while on the set of a Tarzan movie before being acquired by the current owners. "He suffers from an inner ear condition that requires him to take anti-motion sickness medication from time to time especially during changes in barometric pressure," the group´s web site says.



Most distant orbiting planet discovered

ISLAMABAD: Astronomers have discovered the most distantly orbiting planet to date weighing in at 11 times Jupiter s mass and revolving its host star at 650 times the average Earth Sun distance.
The discovery of the giant planet has puzzled the astronomers effectively throwing a wrench in planet formation theories.
An international team of astronomers led by a University of Arizona graduate student discovered the planet HD 106906 b around a Sun like star Science Daily reported.
This system is especially fascinating because no model of either planet or star formation fully explains what we see said Vanessa Bailey who led the research.
It is thought that planets close to their stars like Earth coalesce from small asteroid like bodies born in the primordial disk of dust and gas that surrounds a forming star. However this process acts too slowly to grow giant planets far from their star researchers said.

Italian town lights “world’s biggest Christmas tree

GUBBIO: A picturesque medieval town in northern Italy on Saturday turned on a giant light installation known as the "World´s Biggest Christmas Tree."
Hundreds of onlookers, many of them delighted children, watched as a priest used a tablet computer to switch on the dazzling display on a hill above the town of Gubbio in the Umbria region.
The "tree" is made up of some 1,000 multi-coloured lights arranged across a hillside above Gubbio and stretches to a height of 750 metres (2,461 feet) and a maximum width of 450 metres.
The shooting star at the top of the hill is made up of 250 lights and covers an area of more than 1,000 square metres (10,760 square feet).
The town in the Umbria region in northern Italy, which also has historical links to Saint Francis of Assisi, began the installation in 1981. (AFP)

زندگی میں کامیابی کے لئے پُرکشش ہونا زیادہ ضروری ہے،نئی تحقیق


لندن… این جی ٹی…ویسے تو زندگی کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لئے اعلیٰ تعلیم کو ہی کامیابی کا سب سے بہترین راز سمجھا جاتا ہے لیکن ماہرین کا تو کچھ اور ہی کہنا ہے۔جی ہاں جناب برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ اچھی نوکری حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ تعلیم ضروری نہیں بلکہ خوبصورت ہونا ہی کامیابی کا معیار ہے ۔تحقیق کے مطابق خوبصورت افراد اپنے کیرئیر میں آگے نکل جاتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں اوسط درجے کے افراد وہ مقام نہیں حاصل کرپاتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پُر کشش چہرے کے حامل افراد میں اعتماد بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے اور ان کے باس یا مالکان کا رویہ بھی ان کا ساتھ بہتر ہوتا ہے۔

واقعی پاگلوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے

بخارسٹ…سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ پاگلوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے بلکہ ان کی حرکتیں ہی انہیں بے وقوف ثابت کرنے کے لئے کافی ہوتی ہیں۔ذرا ان صاحب کو ہی دیکھ لیجئے جس کا جی خود کارسیڑھی کو دیکھتے ہی ایسا مچلا کہ آپے سے ہی باہر ہوگیا اور یہ جناب چڑھنے والے راستے سے اترنے لگے ۔وہ کہتے ہیں نہ کہ ہر عمل کا کوئی نہ کوئی رد عمل ضرور سامنے آتا ہے تو ایسا ہی کچھ ہوا اور یہ صاحب بے چارے منہ کے بل زمین پر جا گرے لیکن اپنی حرکتوں سے باز پھر بھی نہ آئے۔

برازیلین انتظامیہ نے ووزولاباجے کی ٹکر پر کاکسیرولامتعارف کروادیا

برازیلیا… این جی ٹی… برزایل میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی مقابلے فیفا فٹ بال ورلڈ کپ2014شروع ہونے میں ابھی ایک سال باقی ہے لیکن اسکی میزبانی کرنے والے ملک برازیل میں تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ فٹ بال ورلڈ کپ2010میں مقبولیت حاصل کرنے والے پلاسٹک کے باجے ووزولا(Vuvuzela)کو ٹکر دینے اُسکے متبادل کے طور پر برازیلین انتظامیہ نے اسٹڈیمز میں تماشائیوں کے شور مچانے کے لیے کاکسیرولا(Caxirola) نامی آلہ متعارف کروادیا ہے۔زور سے ہلانے پرکھڑکھڑاہٹ کی آواز پیدا کرتے کاکسیرولا کو برازیلین موسیقار کارلنہوس براؤن نے فیفا اور برازیل کی وزارتِ اسپورٹس کیساتھ ملکر ری سائیکل شدہ پلاسٹک سے تخلیق کیا ہے جسکا رنگ ملک کے جھنڈے کو دھیان میں رکھتے ہوئے سبز و پیلا رکھا گیا ہے۔ووزولا باجے کے برخلاف کم شور پیدا کرنے والے اس آلے کاکسیرولا کوابتدائی طور پر جون میں ہونے والے کنفیڈریشن کپ میں تماشائیوں کو دیا گیا تھاتاکہ اسکی منفی اور مثبت اثرات پر غور کیا جاسکے جسکے بعد اب اسے فٹ بال ورلڈکپ میں تماشائیوں کیلئے شور مچانے کا آفیشل آلہ قرار دے دیا گیاہے۔

کراچی:سیاسی جماعتوں کو عسکری ونگ ختم،ملزمان حوالے کرنے کا الٹی میٹم

کراچی…کراچی پولیس چیف نے سیاسی جماعتوں کو عسکری ونگ ختم کر کے ملزمان کو پولیس کے حوالے کرنے کا الٹی میٹم دے دیا،ورنہ ان کے نام کی فہرست جاری کر دی جاے گی،کراچی میں تین ماہ سے جاری آپریشن پر کراچی پولیس چیف نے اطمینان ظاہر کر دیا ،ان کا کہنا تھا،کراچی میں جرائم اور قتل و غارت گری 20 سال سے جاری ہے ،مکمل ختم ہونے میں وقت لگے،ابھی تو صرف تین ماہ ہی گذرے ہیں۔ شاہد حیات کا کہنا تھاکہ آپریشن کے دوران 160 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ،پولیس کے لیے کوئی نو گو ایریا نہیں ہم عزیز آباد ،لیاری اور سہراب گوٹھ سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔آپریشن سے قبل بھتہ کے 608 کیس تھے جن میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔کراچی میں منشیات کا سب سے بڑا کاروبار ہے ،جسے ختم کر دیں گے،ہماری کارروائیاں سب کے سامنے ہیں ،جن کے خلاف ثبوت نہیں انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔آپریشن کے دوران کوئی سیاسی دباوٴ نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں ہم سے تعاون کریں اور ان میں موجود عسکری ونگ ختم کر کے ملزمان کو ہمارے حوالے کریں ورنہ ان کی فہرست شائع کر دی جائے گی۔پولیس چیف کا کہنا تھا کہ پولیس میں شامل کالی بھیروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو جرائم کی سرپرستی میں ملوث ہیں تاہم چودھری اسلم اور ڈی ایس پی جاوید عباس پر الزامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔

آئی سی سی نے وقاریونس کوہال آف فیم میں شامل کرنے کااعلان کر دیا

دبئی… انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے وقاریونس کوہال آف فیم میں شامل کرنے کااعلان کیا ہے ۔بدھ کوسری لنکا کے خلاف پہلے ٹی 20میچ کے وران وقاریونس ہال آف فیم میں شامل ہوں گے۔وقاریونس ہال آف فیم میں پانچویں پاکستانی کرکٹر ہوں گے۔عمران خان،جاویدمیانداد،حنیف محمد،وسیم اکرم بھی ہال آف فیم میں شامل ہیں۔

وعدے کے باجود لاپتہ افراد پیش نہ کر نے پر سپریم کورٹ برہم

 
اسلام آباد… چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو سکتا، لاپتہ افراد کا معاملہ وزیراعظم کے علم میں ہے اور ان کا یہ رویہ ہے، عدالت حکم دے گی، پھر جو اس کی زد میں آئے گا، دیکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت نے مزید لاپتہ افراد نہ پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے کہا کہ آپ نے14 بندے لانے کا وعدہ کیا تھا، وہ بھی پورا نہیں کیا، عدالت میں غلط کہانیاں پیش کرنے کی کیسے جرات کی گئی؟ ہم نے جو حکم دیا تھا، اس پر عمل نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے علم میں بات ہے اور ان کا یہ رویہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مالاکنڈ حراستی مرکز کے سپرنٹنڈنٹ نے ثابت کر دیا، اب کوئی گنجائش نہیں، افراد کو جبری گمشدہ کرنے کا کوئی قانون نہیں، جبری گمشدگیوں کا معاملہ حساس ہے ، اسے اہمیت ہی نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے کو نمٹا دیتے ہیں، ہم حکم دے دیں گے اس کی زد میں جو بھی آئے گا، دیکھا جائے گا۔