4 جنوری، 2014

ہفتہ وار افراط زر کی شرح میں0.17 فیصد اضافہ

کراچی: ملک میں گزشتہ ہفتے حساس قیمتوں کے اشاریے کی بنیاد پر افراط زر کی شرح میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیاگیا جس کی بڑی وجہ ٹماٹر اور مرغی کا مہنگا ہونا ہے۔
پاکستان بیوروشماریات کے مطابق گزشتہ 5 ہفتے سے جاری افراط زر کی شرح میں کمی کارجحان ختم ہوگیا اور 2جنوری 2014 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران افراط زر کی شرح میں ہفتہ وار بنیادوں پر 0.17 اور سالانہ بنیادوں پر 10.13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا، اس دوران 12 اشیا کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافہ، 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور 31 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا، گزشتہ ہفتے ٹماٹر کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ دیکھا گیا اور ملک میں ٹماٹر کی اوسط قیمت 16.19 فیصد اضافے کے ساتھ 41.56 روپے سے بڑھ کر 48.29 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی جبکہ زندہ مرغی کی قیمت بھی 5.89 فیصد بڑھ کر 184.08 روپے فی کلوگرام ہوگئی جو ایک ہفتے قبل 173.84 روپے فی کلوگرام تھی۔
 photo 2_zpsf4247de5.jpg
اس دوران دال مونگ 1.34 فیصد، جلانے کی لکڑی 1.28 فیصد، کیلے 0.99 فیصد، دال ماش0.78 فیصد، سادہ بریڈ 0.27 فیصد، گھی (ٹن) 0.14فیصد مہنگا ہوگیا جبکہ پکانے کے تیل کے ٹن، سرسوں کے تیل، دال مسور اور گھی (کھلا) کے دام بھی بڑھ گئے تاہم فی درجن انڈے 5.51فیصد، آلو 4.93 فیصد، چینی 1.53فیصد، پیاز 1.45 فیصد، گڑ 1.41فیصد، ایل پی جی 0.76 فیصد، لہسن0.43 فیصد، گندم 0.40 فیصد، دال چنا 0.16 فیصد اور آٹا 0.03 فیصد سستا ہونے سے 12 اشیا مہنگی ہونے کے اثرات کافی حد تک زائل ہوگئے جس کی وجہ سے 8ہزار روپے ماہانہ تک کمانے والوں پر محض 0.13 فیصد کا اضافی بوجھ پڑا، 12 ہزار کمانے والوں کی جیب پر مہنگائی کے اثرات 0.15 فیصد، 18ہزار تک کمانے والوں کے لیے افراط زر میں 0.16فیصد، 35ہزار تک ماہانہ آمدنی والوں کیلیے 0.18 فیصد اور مہینے میں 35 ہزار سے زیادہ کمانے والوں کیلیے مہنگائی کی شرح میں 0.19 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔

کیوں چکرا گئے نہ ،سَر کے بل گھومنے والا باصلاحیت نوجوان

لندن…یوں تو آپ نے کئی حیرت انگیز کرتب دِکھانے والے باصلاحیت لوگ دیکھے ہونگے لیکن اس نوجوان جیسا ماہر شخص شاید ہی کہیں دیکھا ہو جو اپنے سَر کے بَل تیز رفتاری سے گھومنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔برطانیہ سے تعلق رکھنے والا یہ اسٹریٹ پرفارمر اپنے فن کا مظاہرے کرتے ہوئے درجنوں افراد کے سامنے مہارت سے سَرکے بل زمین پر انتہائی تیزی سے گھومنا شروع کرتاہے تو رکنے کا نام نہیں لیتا ۔اس کرتب کے دوران یہ نوجوان ایک بار بھی چکرا کر نیچے نہیں گِرا جو اس کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

مشرف کیخلاف مقدمے کا اصل مدعی پاکستان اور آئین ہے،وزیراعظم

اوکاڑہ…وزیر اعظم میاں نوا زشریف نے کہا ہے کہ پر ویز مشرف کیخلاف مقدمے کا اصل مدعی پاکستان اور آئین ہے، اوکاڑہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ تین نومبر کو ریاست کی توہین ہوئی یا نہیں فیصلہ عدالت کرے گی۔پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کا اصل مدعی پاکستان اورپاکستان کا آئین ہے، عدالت فیصلہ کرے گی۔

Al-Qaida Raises Flag, Claims Control Over Iraqi City of Fallujah

Black-clad al-Qaida militants in Iraq appeared to seize control of the embattled western city of Fallujah on Friday, raising their flag over government buildings and declaring an independent Islamic state.

Witnesses said the Sunni militants, members of the Islamic State of Iraq and Syria, or ISIS, cut power lines in the city late in the day and ordered residents not to use backup generators. 

But the chief of Fallujah police, Mohamed al-Isawi, disputed the ISIS claims of control, telling The New York Times newspaper that he was repositioning his forces north of the city for a decisive battle. He said his personnel had been strengthened by an alliance of tribal leaders, and that part of a main street had been recaptured by late in the day.

A local journalist who asked for anonymity out of fear of retribution told The Washington Post that police and other government-aligned forces had abandoned the city and that al-Qaida had burned all Iraqi national flags.

Fighting across the vast open spaces of western Iraq has become a severe test of Prime Minister Nuri al-Maliki's ability to hold the country together and prevent full-scale civil war.

Meanwhile, in the al-Anbar provincial capital, Ramadi, a tribal leader who fought alongside U.S. troops in 2007 told The Washington Post his fighters had joined police in ejecting al-Qaida loyalists. He said the regional ISIS leader, Abdul Rahman al-Baghdadi, was among those killed in the fighting.

The explosion of violence in western Iraq is pitting al-Qaida-linked Sunni extremists, who now control large swaths of the region west of Baghdad, against forces of the Shi'ite-dominated central government. Government forces in the west are backed by local tribesmen who have chosen to align themselves with Baghdad rather than with ISIS fighters.

Al-Anbar province was the center of the Sunni insurgency during the eight-year presence of U.S. military forces, which withdrew from the country in December 2011. More than 1,300 U.S. military personnel were killed in the region.