9 جنوری، 2014
مشرف کی میڈیکل رپورٹ پر فیصلہ 2 بجے تک محفوظ
اسلام آباد کی نیشنل لائبریری میں جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی
عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری مقدمے سماعت
کی۔ سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ دوران
علاج پرویز مشرف میں بہت سی بیماریوں کی تشخیص ہوئی ہے اور ان کی حالت
نازک ہے جب کہ ڈاکٹرز نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے لہذا انہیں حاضری سے
استثنیٰ دیا جائے۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ پرویز مشرف کے دل کی کوئی
شریان بند نہیں اور نہ ہی رپورٹ میں ایسا کوئی لفظ ہے کہ ملزم عدالت میں
پیشی کے قابل نہیں اور نہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہذا عدالت ملزم کو بلا کر
فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیں، سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل شریف
الدین پیر زادہ نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کو خفیہ رکھنا تھا لیکن وہ میڈیا تک
پہنچ گئی جس پر اکرم شیخ نے کہاکہ اس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ
رپورٹ میرے دفتر سے لیک نہیں ہوئی۔ عدالت نے میڈیکل رپورٹ پر وکلا کے دلائل
مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو دوپہر 2 بجے سنایا جائے گا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا تھا
کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہادر فوج کا سابق سپہ سالار بیماری کا بہانہ
بنا کر عدالت میں پیش نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہاکہ مشرف کو ایسی کوئی معذوری
نہیں کہ عدالت میں پیش نہ ہوسکیں، میڈیکل رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کی دل
کی دھڑکن 18 سال کے نوجوان جیسی ہے جب کہ بلڈپریشر سپورٹس مین کی طرح ہے۔
پرویز مشرف کے بیرون ملک علاج سے متعلق اکرم شیخ کا کہنا تھاکہ پاکستان میں
تمام امراض کا علاج ہوتا ہے جب کہ کراچی کے آغا خان اسپتال اور اے ایف
آئی سی میں امراض قلب کے علاج کی بہترین سہولیات موجود ہیں یہاں بیرون ملک
سے بھی لوگ علاج کے لئے آتے ہیں۔
واضح رہے کہ آرمدفورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی راولپنڈی کے حکام نے
سابق صدر پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ منگل کے روز خصوصی عدالت میں پیش کی
تھی۔
عدالت میں پیشی کے باوجود آصف زرداری پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی
اسلام
آباد…سابق صدر آصف علی زرداری آج نیب کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے ، ان
پر پولوگرآوٴنڈ ریفرنس میں فرد جرم عائدنہیں کی گئی ، ان کے وکیل کا مو قف
ہے کہ پولو گراوٴنڈ ریفرنس بے بنیاد ہے سابق صدر آصف علی زرداری کی آج نیب
عدالت میں پیشی تھی ۔ سابق صدر گھر سے نکلے اور عدالت پہنچے، ان کے ہمراہ
پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں اور کارکنوں کی بھی بڑی تعداد عدالت تک پہنچی۔
سابق صدر کو آج نیب نے پانچ ریفرنسرز میں طلب کر رکھا تھا ، ان میں پولو
گراوٴنڈ ریفرنس ، ایس جی ایس ، کوٹیکنا ، اے آر وائی گولڈ اور ارسس ٹریکٹرز
شامل ہیں۔ آصف علی زرداری پر پولو گراوٴنڈ ریفرنس میں فرد جرم عائد کیے
جانے کا امکان تھا لیکن آج ان پر فرد جرم عائد نہ کی گئی ، عدالت نے اس
معاملے پر ان کے وکیل کی بحث کی درخواست مقرر کرتے ہوئے سماعت کے لیے
اٹھارہ جنوری کی تاریخ مقرر کردی، آج کی سماعت میں استغاثہ کی جانب سے 5
گواہ عدالت میں پیش ہوئے، فاروق ایچ نائیک کے گواہوں پر اعتراضات کے باعث
سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفت گو میں آصف
علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ پولو گراوٴنڈ ریفرنس بے
بنیاد ہے ، اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے کہاکہ پیپلز
پارٹی کے رہنماوٴں کو ہر دور میں نشانہ بنایا گیا لیکن ان کے قائدین
سیکیورٹی خدشات کے باوجود عدالتوں کا احترام میں وہاں پیش ہوئے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

