9 دسمبر، 2013

وعدے کے باجود لاپتہ افراد پیش نہ کر نے پر سپریم کورٹ برہم

 
اسلام آباد… چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ قومی مفاد کے نام پر کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو سکتا، لاپتہ افراد کا معاملہ وزیراعظم کے علم میں ہے اور ان کا یہ رویہ ہے، عدالت حکم دے گی، پھر جو اس کی زد میں آئے گا، دیکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت نے مزید لاپتہ افراد نہ پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے کہا کہ آپ نے14 بندے لانے کا وعدہ کیا تھا، وہ بھی پورا نہیں کیا، عدالت میں غلط کہانیاں پیش کرنے کی کیسے جرات کی گئی؟ ہم نے جو حکم دیا تھا، اس پر عمل نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے علم میں بات ہے اور ان کا یہ رویہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مالاکنڈ حراستی مرکز کے سپرنٹنڈنٹ نے ثابت کر دیا، اب کوئی گنجائش نہیں، افراد کو جبری گمشدہ کرنے کا کوئی قانون نہیں، جبری گمشدگیوں کا معاملہ حساس ہے ، اسے اہمیت ہی نہیں دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے کو نمٹا دیتے ہیں، ہم حکم دے دیں گے اس کی زد میں جو بھی آئے گا، دیکھا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں