اسلام
آباد…پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت نے کل مشرف
کو ہر صورت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ
مشرف کو عدالت آنے میں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔مشرف کو کل ہر صورت عدالت پیش
کیا جائے۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت کیس کی سماعت
کررہی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔مشرف کے
وکلا کی طرف سے عدم پیشی کی وجہ سیکیورٹی کا مناسب انتظام نہ ہونا بتائی
گئی، عدالت نے آئی جی سے استفسارکیا کہ پرویز مشرف کا عدالت تک سفر محفوظ
ہے تو انہوں نے کہا کہ بالکل محفوظ ہے ، ملزم کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا،
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کیلئے ایک ہزار اہل کار تعینات کیے گئے۔جسٹس فیصل
عرب نے کہا کہ سمن جاری ہو چکے ، عدالت نہیں چاہتی کہ پرویز مشرف کی کی
تضحیک ہو،کل لازمی پیش کیا جائے۔مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کو تشکیل کے
خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز کی نامزدگی کے لیے چیف جسٹس پاکستان کا
آفس استعمال کیا گیا جو درست نہیں ، پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف سے
انکار کرنے والے شخص کو خصوصی عدالت کا سربراہ بنا دیاگیا۔ جسٹس فیصل عرب
نے کہا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ انور منصور نے بنچ کے دیگر
دو ججز جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر بھی اعتراضات اٹھائے جو غلط
ثابت ہوئے۔
1 جنوری، 2014
31 دسمبر، 2013
30 دسمبر، 2013
فوج غداری کیس میں میرے دفاع میں کہاں تک جاسکتی ہے یہ آرمی چیف پر منحصر ہے، پرویز مشرف
اسلام آباد: سابق صدر جنرل
(ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاک فوج میں حتمی فیصلہ آرمی چیف کرتا
ہے اس لئے وہ غداری کیس کا معاملہ ان پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ان کے دفاع میں
کہاں تک جاسکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ
ان کے خلاف غداری کا مقدمہ سیاسی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں اور وہ اس
کیس کا بھر پور سامنا کریں گے اور انہیں توقع ہے کہ ملک کی اعلی عدلیہ
انہیں انصاف دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے اور انہوں
نے اس میں کئی دہائیاں گزاری ہیں اس دوران ملک کے دفاع کے لئے کئی جنگیں
بھی لڑیں، اس لئے انہیں فوج کی عمومی رائے کا اندازہ ہے، وہ یہ بات کہتے
ہیں کہ غداری کیس پر فوج میں تشویش اور ناراضگی ہے لیکن چونکہ پاک فوج ایک
نہایت منظم ادارہ ہے جہاں عسکری حکام سے کسی معاملے پر رائے تو لی جاتی ہے
لیکن حتمی فیصلہ آرمی چیف ہی کرتا ہے، اس لئے وہ بھی اپنا معاملہ آرمی چیف
پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ان کے دفاع میں کہاں تک جاسکتے ہیں۔
ان پرغداری کے مقدمے اور اس کی سماعت کے معاملے پر پاک فوج کی خاموشی کو
رضامندی قرار دینے سے متعلق سوال پر پرویزمشرف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے
میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی ہی بہتر بتا سکتے ہیں
کیونکہ اس وقت وہ پاک فوج کے سربراہ تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی
معاملات سامنے نہیں لائے جاتے نہ ہی اس پر کھل کر بات کی جاتی ہیں، کوئی
بھی بات میڈیا میں آجائے تو اس بات کا بتنگڑ بنادیا جاتا ہے، طرح طرح کی
افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں اور جھوٹ کو سچ بنا دیا جاتا ہے اس لئے کسی بھی
معاملے پر خاموشی کو ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف فوج ہی
نہیں عام آدمی بھی آج ان کے دور کو یاد کرتا ہے کیونکہ ان کے دوران میں
غربت میں کمی ہوئی تھی اور لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا تھا۔
شہریوں اور افواج پر حملے کرنے والوں کیلیے قانون میں کوئی جگہ نہیں،وزیراعظم
اسلام
آباد…وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انسداد دہشت گردی کے متعلق قانون سازی
کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں اور مسلح
افواج پر حملے کرنے والوں کے لیے قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے۔انھوں نے یہ
بات امن و امان سے متعلق اسلام آباد میں اعلیٰ سطح ا جلاس کی صدارت کرتے
ہوئے کہی۔اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل اسٹاف
لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ،ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس نے
بھی شرکت کی۔ترجمان وزیر اعظم آفس کے مطابق اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے
متعلق قانون سازی کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ
انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین میں ترامیم یا نئی قانون سازی کا زیر
التواء کام جلد مکمل کیا جائے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں اور
مسلح افواج پر حملے کرنے والیعناصر کے خلاف موثر قانونی کارروائی ہونی
چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے گی،
کراچی اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے سول انتظامیہ اور
فوج یکجا ہیں۔
آصف زرداری کی عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ایم کیوایم سے مذاکرات کی ہدایت
لاڑکانہ: سابق صدر اور
پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کی
جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بلدیاتی قانون سے متعلق تمام تحفظات دور
کرنے کی ہدایت کردی۔
بلدیاتی قانون میں ترامیم اور کراچی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق سندھ
ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے نوڈیرو ہاؤس
میں سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران عدالتی فیصلے اور
بلدیاتی قانون میں ترامیم سے متعلق دیگر امور پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر
صدر آصف زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کوہدایت کی کہ ایم
کیو ایم کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی جائے اور وہ اپنی سربراہی میں
ایک کمیٹی بنائیں جس آغا سراج درانی، نثار کھوڑو اور منظور وسان سمیت
دیگر رہنما شامل ہوں مشتمل تاکہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کئے جائیں۔
اس موقع پر آصف زرداری نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ
سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی جب کہ بجلی کے معاملات وفاقی حکومت سے لے کر
خود سنبھالنے کا بھی حتمی فیصلہ کیا گیا۔
China says police kill eight 'terrorists' in Xinjiang
The Xinjiang government news portal Tianshan Net said that the group
of nine attacked officers and burned police cars in Shache county, which
is overseen by the famed Silk Road city of Kashgar.
It was the latest in a series of attacks pointing to growing unrest in the large sprawling region of Xinjiang, home to a simmering rebellion against Chinese rule among parts of the native Muslim Uighur population who want more autonomy from Beijing.
Recent clashes, including an attack on a police station last month, have left dozens of people dead.
A Xinjiang government press officer confirmed Monday's report but said he had no further information.
He gave only his surname, Cao. Police reached by phone in Shache and Kashgar said they had no information about the incident.
The Chinese government typically calls such incidents terrorist attacks linked to radicals based overseas, although there is little evidence that they are carefully organized.
Xinjiang is home to about 9 million Uighurs, who make up less than half of the population of Xinjiang, which they used to dominate.
Many complain that they have been marginalized by policies favoring migrants from China's ethnic Han majority.
Beijing says it treats all minorities fairly and spends billions of dollars on development and improving living standards in Xinjiang.
Tianshan Net said the police took ''resolute measures'' by shooting the eight and arresting one, adding the case was under further investigation.
Sweden-based Uighur activist Dilxat Raxit said Uighurs were being shot to death ''due to their discontent with China's policies.''
''To label the protesters as terrorists and shoot them to death is a new way of suppressing the Uighurs following China's judicial reforms,'' he said, referring to recent moves to improve the country's party-controlled justice system.
As well as a number of deadly clashes in Xinjiang this year, an attack in October struck at the heart of Beijing.
Three Uighurs drove a vehicle through crowds in front of iconic Tiananmen Gate, killing themselves and two tourists.
It was the latest in a series of attacks pointing to growing unrest in the large sprawling region of Xinjiang, home to a simmering rebellion against Chinese rule among parts of the native Muslim Uighur population who want more autonomy from Beijing.
Recent clashes, including an attack on a police station last month, have left dozens of people dead.
A Xinjiang government press officer confirmed Monday's report but said he had no further information.
He gave only his surname, Cao. Police reached by phone in Shache and Kashgar said they had no information about the incident.
The Chinese government typically calls such incidents terrorist attacks linked to radicals based overseas, although there is little evidence that they are carefully organized.
Xinjiang is home to about 9 million Uighurs, who make up less than half of the population of Xinjiang, which they used to dominate.
Many complain that they have been marginalized by policies favoring migrants from China's ethnic Han majority.
Beijing says it treats all minorities fairly and spends billions of dollars on development and improving living standards in Xinjiang.
Tianshan Net said the police took ''resolute measures'' by shooting the eight and arresting one, adding the case was under further investigation.
Sweden-based Uighur activist Dilxat Raxit said Uighurs were being shot to death ''due to their discontent with China's policies.''
''To label the protesters as terrorists and shoot them to death is a new way of suppressing the Uighurs following China's judicial reforms,'' he said, referring to recent moves to improve the country's party-controlled justice system.
As well as a number of deadly clashes in Xinjiang this year, an attack in October struck at the heart of Beijing.
Three Uighurs drove a vehicle through crowds in front of iconic Tiananmen Gate, killing themselves and two tourists.
وزیراعلیٰ سندھ کا بلدیاتی قانون سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان
سکھر: وزیراعلیٰ سندھ سید
قائم علی شاہ نے بلدیاتی قانون سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف
سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔
سکھر ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ
سندھ کا کہنا تھاکہ بلدیاتی قانون میں کی گئی ترامیم کے خلاف سندھ ہائی
کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے، ابھی عدالت کا مختصر فیصلہ
آیا ہے، تفصیلی فیصلہ آنے اور اس پر وکلا سے مشاورت کے بعد سپریم کورٹ سے
رجوع کریں گے، قائم علی شاہ کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے کے بعد سندھ میں
بلدیاتی انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے تاہم اس کی تاریخ میں توسیع ہوسکتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سابق
صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زردری سے نوڈیرو ہاؤس میں
ملاقات کی جس میں بلدیاتی قانون میں ترامیم اور نئی حلقہ بندیوں پر فیصلے
کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ کورٹ نے آج بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف درخواستوں
پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت سندھ کی جانب سے کی گئی ترامیم اور کراچی کی نئی
حلقہ بندیوں کو غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت کا کہنا تھا
کہ سندھ حکومت اگر حلقہ بندیاں ضروری سمجھتی ہے تو الیکشن کی تاریخ بڑھانے
کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ
بلدیاتی قانون میں ترامیم اور کراچی کی نئی حلقہ بندیوں پر ایم کیو ایم اور
دوسرے دوست ناراض ہیں لیکن اس پر سندھ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی ہم اسے
قبول کریں گے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)






