1 جنوری، 2014

تیز ترین سنچری کا ریکارڈ ٹوٹناحیران کن ہے، شاہد آفریدی

کراچی…آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ تیز ترین سنچری کا ریکارڈ ٹوٹنا میرے لئے حیران کن ہے، مجھے یقین تھا کہ میراریکارڈ نہیں ٹوٹ سکتا۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شاہدآفریدی کا کہنا تھا کہ 17سال تک تیزترین سنچری کاریکارڈمیرے نام رہا، خواہش تھی کہ کیریئرکے اختتام تک ریکارڈ میرے پاس رہے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ شاہدآفریدی نے کہا کہ خواہش ہے کہ ون ڈے میں 400 وکٹیں اور 8 ہزاررنزمکمل کروں۔ کیوی بیٹسمین کورے اینڈرسن نے آج ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں صرف 36 گیندوں پر سنچری اسکور کرکے آفریدی کا تیز ترین سنچری کا ریکارڈ توڑدیا۔اس سے قبل آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے 1996 میں سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری اسکور کی تھی۔

کبھی دیکھی ہے پہیہ کے اندر بنی موٹر بائیک!

لندن…نت نئے ڈیزائن کی تیز رفتار بائیک رکھنے کے شوقین تو بہت سے لوگ ہوں گے لیکن یہ نوجوان تو کچھ الگ ہی قسم کے شوق میں مبتلا نظر آتا ہے۔عام طور پر بائیک میں پہیہ نصب کر کے اسے تیز رفتاری سے چلنے کے قابل بنایا جا تا ہے لیکن ان نوجوان انجینئرز نے ایک بڑے پہیہ کے اندر انجن لگا ایسی انوکھی سواری تیار کر لی ہے جسے دیکھ کر لوگ بے ا ختیار پلٹ کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔آج کے جدید دور میں ٹیکنالوجی کی بدولت ہر چیزمختلف روپ دھارے نظر آتی ہیں اس نوجوان کا یہ انوکھا شوق بھی کچھ کم حیران کن نہیں۔ ٹھیک ہی کہا جاتا ہے کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا!

سندھ حکومت نے کراچی آپریشن کیلئے وفاق سے پونے 4 ارب مانگ لیے

کراچی…حکومت سندھ نے کراچی آپریشن کی مد میں وفاق سے پولیس اور محکمہ جیل خانہ جات کے لئے پونے چار ارب روپے مالیت کی بکتر بندگاڑیاں اور جدید آلات مانگ لئے۔سندھ حکومت نے کراچی آپریشن کے لئے لاجسٹک سپورٹ کے لئے اپنی ضروریات کی تفصیلات وفاقی وزارت داخلہ کو بھیج دی ہیں۔ صوبائی حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے جدید بکتر بندگاڑیاں، بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمٹ، موبائل جیمر، جی ایس ایم لوکیٹرز، سی سی ٹی وی کیمرے، نائٹ ویژن گوگلز سمیت دیگرآلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ گاڑیا ں اور جدید آلات محکمہ پولیس اور محکمہ جیل خانہ جات کے لئے مانگا گیا ہے جس کی مالیت چار ارب روپے کے قریب ہے۔وفاقی حکومت کو لکھے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ دورہ سندھ میں کراچی میں امن و امان کے لئے ٹارگٹڈ آپریشن کے لئے ہرقسم کی لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

غلط پالیسیاں آئی ایم ایف کے نرغے میں لے آتی ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد…وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہاہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے قرضے بڑھے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے نرغے میں آجاتے ہیں، وفاقی کا بینہ کے اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آج اجلاس میں میڈیا کو بریفنگ دینے کافیصلہ اس لیے بھی کیا گیا کہ میڈیا کوحقیقت کا پتہ ہونا چاہیے۔اسلام آباد میں وفاقی کا بینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سے قرضے بڑھے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے نرغے میں آجاتے ہیں، 90 کی دہائی میں بھی آئی ایم ایف کے نرغے سے نکل آئے تھے، خدا کرے قرضوں سے جان چھوٹ جائے، وزیراعظم نے کہاکہ معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے، ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بجلی بحران کا سامنا ہے، لائن لاسز کم کرنے اور ترسیل کے نظام کوبہتر بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، کوئلے ،ہوا، پانی اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایاکہ وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے صوابدیدی فنڈز ختم کردیئے گئے ہیں، جبکہ خودمختار اداروں کو بھی 45 دن میں غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ گردشی قرضوں کی ادائیگی سے ایک نہیں کئی فائدے ہوئے ہیں، مزید بجلی سسٹم میں آئی، روزگار بڑھا اور 54 ارب روپے سالانہ کی بچت بھی ہوگی۔وزیر خزانہ نے اس تاثر کو رد کردیا کہ موجودہ حکومت نے اپنے چھ ماہ میں ہی گذشتہ دور حکومت سے زیادہ نوٹ چھاپ لیے۔

غداری کا مقدمہ ،مشرف کو کل ہر صورت پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد…پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت نے کل مشرف کو ہر صورت عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا، آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ مشرف کو عدالت آنے میں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔مشرف کو کل ہر صورت عدالت پیش کیا جائے۔ جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت کیس کی سماعت کررہی ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔مشرف کے وکلا کی طرف سے عدم پیشی کی وجہ سیکیورٹی کا مناسب انتظام نہ ہونا بتائی گئی، عدالت نے آئی جی سے استفسارکیا کہ پرویز مشرف کا عدالت تک سفر محفوظ ہے تو انہوں نے کہا کہ بالکل محفوظ ہے ، ملزم کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کیلئے ایک ہزار اہل کار تعینات کیے گئے۔جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سمن جاری ہو چکے ، عدالت نہیں چاہتی کہ پرویز مشرف کی کی تضحیک ہو،کل لازمی پیش کیا جائے۔مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت کو تشکیل کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ججز کی نامزدگی کے لیے چیف جسٹس پاکستان کا آفس استعمال کیا گیا جو درست نہیں ، پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف سے انکار کرنے والے شخص کو خصوصی عدالت کا سربراہ بنا دیاگیا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ انور منصور نے بنچ کے دیگر دو ججز جسٹس یاور علی اور جسٹس طاہرہ صفدر پر بھی اعتراضات اٹھائے جو غلط ثابت ہوئے۔

30 دسمبر، 2013

فوج غداری کیس میں میرے دفاع میں کہاں تک جاسکتی ہے یہ آرمی چیف پر منحصر ہے، پرویز مشرف

اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاک فوج میں حتمی فیصلہ آرمی چیف کرتا ہے اس لئے وہ غداری کیس کا معاملہ ان پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ان کے دفاع میں کہاں تک جاسکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ سیاسی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں اور وہ اس کیس کا بھر پور سامنا کریں گے اور انہیں توقع ہے کہ ملک کی اعلی عدلیہ انہیں انصاف دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے اور انہوں نے اس میں کئی دہائیاں گزاری ہیں اس دوران ملک کے دفاع کے لئے کئی جنگیں بھی لڑیں، اس لئے انہیں فوج کی عمومی رائے کا اندازہ ہے، وہ یہ بات کہتے ہیں کہ غداری کیس پر فوج میں تشویش اور ناراضگی ہے لیکن چونکہ پاک فوج ایک نہایت منظم ادارہ ہے جہاں عسکری حکام سے کسی معاملے پر رائے تو لی جاتی ہے لیکن حتمی فیصلہ آرمی چیف ہی کرتا ہے، اس لئے وہ بھی اپنا معاملہ آرمی چیف پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ان کے دفاع میں کہاں تک جاسکتے ہیں۔
ان پرغداری کے مقدمے اور اس کی سماعت کے معاملے پر پاک فوج کی خاموشی کو رضامندی قرار دینے سے متعلق سوال پر پرویزمشرف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی ہی بہتر بتا سکتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ پاک فوج کے سربراہ تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی معاملات سامنے نہیں لائے جاتے نہ ہی اس پر کھل کر بات کی جاتی ہیں، کوئی بھی بات میڈیا میں آجائے تو اس بات کا بتنگڑ بنادیا جاتا ہے، طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں اور جھوٹ کو سچ بنا دیا جاتا ہے اس لئے کسی بھی معاملے پر خاموشی کو ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف فوج ہی نہیں عام آدمی بھی آج ان کے دور کو یاد کرتا ہے  کیونکہ ان کے دوران میں غربت میں کمی ہوئی تھی اور لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا تھا۔