22 دسمبر، 2013

ٹیکس دہندگان عدالت میں چلے گئے، آڈٹ پلان پر عمل مشکل

اسلام آباد: ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے عدالتوں میں مقدمے بازی کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماتحت اداروں کے لیے آڈٹ پلان پر عملدرآمد کرنا مشکل ہوگیا ہے۔فیلڈ فارمشنز نے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر کو پالیسی گائیڈ لائن جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔
’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیلڈ فارمشنز کی طرف سے ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے آڈٹ پلان کے تحت کمپیوٹرائزڈقرعہ اندازی کے ذریعے جن ٹیکس دہندگان کو ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ان کے خلاف جب فیلڈ فارمشنز کی طرف سے آڈٹ پراسیس شروع کیا گیا تو مختلف ٹیکس دہندگان نے انہیں آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے اور فیلڈ فارمشنز کے خلاف رٹ پٹیشنز فائل کردی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ ٹیکس دہندگان کی طرف سے دائر کردہ کیسوں کی نوعیت سے آگہی کے لیے نمونے کے طور پر رٹ پٹیشن کی کاپیاں بھی ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو بھجوائی گئی ہیں۔
 photo 1_zpsc7694ca0.jpg
دستاویز کے مطابق کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے والے ٹیکس دہندگان نے ایف بی آر کے ماتحت اداروں کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کرانا شروع کردیے ہیںاور ٹیکس دہندگان کی طرف سے ٹیکس ایئر 2011 اور 2012 کے آڈٹ پراسیس شروع کرنے کی مخالفت کی جارہی ہے جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 177 کی ذیلی شق 7 کے تحت کسی بھی ٹیکس دہندہ کو صرف معقول جواز کی صورت میں گزشتہ کچھ سال کے مسلسل آڈٹ کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ دستاویز کے مطابق فیلڈ فارمشنز نے ایف بی آر کوبتایا کہ رٹ پٹیشن دائر میں ٹیکس دہندگان کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے منتخب کیے جانے کے جواز اور وجوہ کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق ٹیکس دہندگان کا ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے انتخاب بذریعہ رینڈم کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہوا ہے اور اس کے لیے کسی قسم کے کوئی پیرامیٹرز متعین نہیں کیے گئے، ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیںکہ ٹیکس ایئر 2011 کے آڈٹ کیلیے منتخب ٹیکس دہندگان کو رینڈم کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹیکس ایئر2012 کے آڈٹ کے لیے دوبارہ منتخب کرلیا گیا جس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا ٹیکس ایئر 2012 کے آڈٹ کیلیے انتخاب پیرامیٹرز کے بغیرہوا، اس لیے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز سے درخواست کی گئی ہے کہ اس بارے میںپالیسی گائیڈ لائن جاری کی جائے تاکہ مقدمہ بازی کو کم کیا جاسکے۔

HyperLink جرمن شہر ہیمبرگ میں مظاہرین اورپولیس کی جھڑپ، 100 افراد زخمی

ہیمبرگ …جرمنی میں کلچر سینٹر کی بندش کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 100 سے زائد افرادزخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق شمالی شہر ہیمبرگ جھڑپیں گزشتہ روز اس وقت ہوئیں جب سات ہزار سے زائد مظاہرین نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے روٹے فلورا کلچر سینٹر کی بندش کے خلاف احتجاج کیا، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے اور 19افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

بلدیاتی بل مسترد، فیصلہ ووٹ سے نہ ہوا تو روڈ پر ہوگا، خالدمقبول صدیقی

کراچی…متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہبلدیاتی بل مسترد کرتے ہیں، فیصلہ ووٹ سے نہ ہوا تو روڈ پر ہوگا، بلدیاتی انتخابات کاکسی صورت بائیکاٹ نہیں کریں گے، سندھ کے بلدیاتی آرڈیننس کومستردکرتے ہیں، اپنے مینڈ یٹ کیلئے آج پھر عوام سڑکوں پر ہیں۔ خالد مقبول صدیقی لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے ایم کیوایم کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اسمبلی کے باہر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے جہاں کالا قانون منظور کیا گیا، کالے قانون کے ذریعے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ شہر صوبے کا 99فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے، ایم کیو ایم سندھ کی شہری آبادی کی نمائندہ جماعت ہے، فیصلہ اگر ووٹ نے نہیں کیا تو فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی شہری آبادی 60فیصد اور دیہی آبادی 40فیصد ہے، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کرے، ہم بلدیاتی انتخابات کاکسی صورت بائی کاٹ نہیں کریں گے، اگر ہم نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو پھرکوئی بھی حصہ نہیں لے سکے گا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بلدیاتی آرڈیننس سے متعلق عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، کراچی کے عوام کو دیوار سے لگایا گیا تو دیوار ہی گرجائے گی، ہم جمہور یت پر یقین رکھتے ہیں، حکمرانوں کے چہروں کی لالی اور اسلام آباد کی ہریالی یہاں کے لوگوں کے ٹیکس سے ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے مہنگائی اور امریکی غلامی کیخلاف 'جہاد' کا اعلان کردیا

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے ڈالر باہر کے بینکوں میں پڑے ہیں وہ لوگ کبھی بھی امریکا سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتے۔
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کی مہنگائی کے خلاف احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت میں ہر مہینے 500 ارب روپے کےنوٹ چھاپے اور موجودہ حکومت صرف 4 ماہ کے عرصے میں 850 ارب روپے کے نوٹ چھاپ چکی ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نئے نوٹ نہیں چھاپیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق تقریبا 30 ہزار افراد ٹیکس نا دہندہ ہیں، جب امیر لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو ٹیکس کا سارا وجھ غریبوں پر بڑھے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن نہیں و گا توسرمایہ کاری نہیں ہو گی، آج کرکٹ ٹیمیں پاکستان نہیں آتیں تو سرمایہ کار کیسے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کی 90 فیصد عوام کہ رہی ہے کہ مہنگائی نے ان اک جینا دو بھر کر دیا ہے، گورنر ہاؤس میں صرف ایک آدمی کے لئے 1700 ملازمین رکھے گئے ہیں جس کا پیسہ عوام سے لیا جا رہا ہے، حضرت علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، پاکستان تحریک انصاف کی مہنگائی کے خلاف سونامی 6 جنوری کو سندھ اور 24 جنوری کو راولپنڈی میں ہو گی، عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا میں احتساب کا ایسا نظام لا رہے ہیں جو وزیراعلیٰ کو بھی نہیں چھوڑے گا، یہ کیسا احتساب ہے کہ احتساب کرنے والا خود انصاف مانگ رہا ہے، اگر ہمارا کوئی وزیر کرپشن میں ملوث ہوا تو اسے خود اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین کا کہنا تھا کہ ہم امریکا سے جنگ نہیں چاہتے مگر جب امریکا ڈرون حملے کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں معصوم لوگ مارے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی بڑھتی ہے اور ہمارے ہی لوگوں پر حملے ہوتے ہیں، ہم نے خیبر پختون خوا میں نیٹو سپلائی صوبے میں امن قائم کرنے کے لئے کی ہے، نواز شریف نے بھی انتخابات میں ڈرون گرانے کے وعدے پر لوگوں سے ووٹ لئے تھے۔

الاسکا: سیکڑوں افراد نے یخ بستہ پانی میں چھلانگ لگادی

نیویارک…سردی میں اضافہ ہوجائے تو گرم رضائیاں، میوہ جات اور گرماگرم مشروبات یاد آتے ہیں لیکن امریکا میں منچلوں نے سردی کا مزہ لینے کے لیے ٹھنڈی ٹھار جھیل میں تیراکی کرلی۔الاسکاکی خون جمانے والی سردی اور متوالوں کی موج مستی ،سیکڑوں افراد نے یخ بستہ پانی میں چھلانگ لگائی۔ مزے مزے سے تیراکی اور ساتھ ہی ،، فلاحی کاموں کیلئے 4 لاکھ پونڈز جمع کیے۔

21 دسمبر، 2013

Foreign Policy Challenges Will Continue in 2014

US Plane Hit in South Sudan, Americans Wounded

The U.S. military says unidentified gunmen have opened fire on at least one U.S. military plane involved in a rescue mission in South Sudan.
The U.S. Africa Command says four U.S. service members were wounded during the incident on Saturday, which took place as the U.S. was trying to evacuate Americans from Bor, a city recently overrun by rebels.

In a statement, the military says it aborted the mission after the plane came under fire and diverted the aircraft to an airfield outside South Sudan.

Bor has been the scene of some of South Sudan's worst fighting during the past week.

The violence erupted after President Salva Kiir, a Dinka, accused former vice president Riek Machar, a Nuer, of attempting a coup. The Juba government says more than 500 people have been killed, and the unrest has forced tens of thousands of people to flee from their homes.

There are reports of fresh fighting in some regions on Saturday.

U.S. Secretary of State John Kerry says he is sending a special envoy to South Sudan to encourage talks between opposing factions. Ambassador Donald Booth is heading to the region as soon as possible.

U.N. Security Council president Gerard Araud said Friday that South Sudan's President Kiir and former vice president Machar have agreed to "unconditional dialogue" despite their recent history of bitter recriminations. Mediators from East African countries met with Mr. Kiir Friday in what they called productive talks, but what form the Kiir-Machar "dialogue" will take is unclear.

On Friday, the U.N. said at least 11 civilians and two peacekeepers had been killed in an attack a day earlier on  a U.N. base in the town of Akobo.

The U.N. Mission in South Sudan (UNMISS) says the peacekeepers and civilians were shot after about 2,000 armed youth, believed to be ethnic Nuers, surrounded the base and opened fire on members of the Dinka ethnic group taking shelter at the U.N. compound.

About 35,000 civilians are believed to have fled to U.N. compounds since the latest unrest began.