20 دسمبر، 2022

                                                                                                                                         روس کا شہر سراتوو

شہر سراتوو ماسکو سے 858 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف وولگا ندی کے کنارے واقع ہے۔ سراتوو کی آبادی 8 لاکھ 43 ہزار ہے۔ یہ شہر سن 1590 میں قائم کیا گیا۔ 18ویں صدی میں یہ مچھلیوں اور نمک کی تجارت کا اہم مرکز تھا، 19ویں صدی میں اناج کی تجارت کا مرکز بن گیا اور 20ویں صدی میں اس میں صنعت کی ترقی شروع ہوئی۔ اس میں مشین سازی، آلات سازی، غذائی اشیاء کی پیداوار موجود ہیں۔ سراتوو وولگا ندی سے منسلک علاقے کا اہم تعلیمی مرکز ہے۔ شہر کی پہلی یونورسٹی سن 1909 میں قائم کی گئی۔ اس وقت سراتوو میں بیس سے زیادہ اعلی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔





15 جون، 2014

Gin & Tonic

Ingredients:

2 1/4 ounces good quality gin (I like Tanquerey, 1 1/2 jiggers)
tonic water, good quality
lime wedge
crushed ice

Directions:

Fill double old-fashion glass with ice.
Wipe lime wedge around the rim of the glass.
3 Gently squeeze lime into glass and leave in glass.
4 Pour gin into the glass.
5 Fill with tonic water.
6 Here is the secret. DO NOT STIR! The essence of both gin and tonic mingle when you sip and it makes for a much fresher drink.


15 جنوری، 2014

ہالینڈ میں قیدی جیل میں رہنے کا کرایہ دیں گے،مسودہ قانون تیار

دی ہیگ… ہالینڈ میں اب قیدی جیل میں رہنے کا کرایہ دیں گے۔ذرائع کے مطابق ہالینڈ کی حکومت نے ایک مسودہ قانون تیار کرلیا ہے جس کی رو سے قیدی سیل میں رہنے والوں سے کرایہ وصول کیا جائے گا۔مذکورہ مسودہ قانون کابینہ سے منظوری کے لئے رواں ہفتے پیش کیا جا رہا ہے۔ہالینڈ کے نائب وزیر انصاف فریڈ ٹیوین کے حوالے سے ہالینڈ کی وزارت انصاف کی ترجمان ویبا الکیما نے بتایا کہ اگر مسودہ قانون منظور ہوجاتا ہے توقیدی سیل میں رہنے والے قیدیوں سے 16 یورو یومیہ کم از کم 2 سال تک وصول کیا جائے گا کیونکہ ایسے قیدی پر حکومت کا یومیہ250 یورو خرچ آتا ہے جس کیلئے معاشرے کو بھی حکومت کے اخراجات کو کندھا دینا چاہیئے۔مذکورہ قانون منظوری کی صورت میں یکم جنوری2015ء سے قابل عمل ہوگا۔حکومتی سطح پر ایک اور مسودہ قانون کی تیاری پر بھی غور ہورہا ہے جس کے تحت قیدیوں سے ان کے کئے گئے جرائم کی تفتیش اور تحقیقات پر اٹھنے والے اخراجات میں سے بھی حصہ وصول کیا جائے گا۔

11 جنوری، 2014

لاہور:تحریک انصاف کی رہنما نیلم اشرف کا بیٹا قتل

تحریک انصاف کے مقامی عہدیدار مسعود بھٹی لاہور سے قصور جارہے تھے کہ فیروز پور روڈ پر مصطفیٰ آباد ٹول پلازہ کے قریب موٹر سائیکل پر سوار پہلے سے گھات لگائے نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں مسعود بھٹی اور ان کے 3 گارڈز موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ان کا وکیل دوست زخمی ہوگیا۔ لاشوں اور زخمی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمی بھی دم توڑ گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر واقعہ پرانی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے تاہم تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق کا پتہ چل پائے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی ہے، دوسری جانب مقتولین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس واقعے میں ملوث بااثر افراد کی پشت پناہی کررہی ہے، اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن انھیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ مسعود بھٹی عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 176 پر تحریک انصاف کے امیدوار بھی تھے تاہم مختلف معاملات پر ان کے کئی افراد سے تنازعات بھی چل رہے تھے۔

چوہدری اسلم پر حملہ: مقدمہ پی آئی بی تھانے میں درج کرلیا گیا

پولیس کی جانب سے چوہدری اسلم اور ان کےساتھیوں پر حملے کا مقدمہ کراچی کے علاقے پی آئی بی تھانے میں سب انسپیکٹر عادل کی مدعیت میں درج کیا گیا  جس میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں 302 سمیت انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس سے قبل پولیس کی جانب سے چوہدری اسلم کے قافلے پر حملہ کرنے والے مبینہ خودکش حملہ آور نعیم اللہ کے 2 ساتھیوں اور ایک بھائی کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھاکہ مبینہ خود کش حملہ آور نعیم اللہ 4 بچوں کا باپ تھا اور اس کی شناخت نادرا نے جائے وقوعہ سے ملنے والے اس کے  ہاتھ کی انگلیوں کے فنگرپرنٹس کی مدد سے کی۔
واضح رہے کہ بدھ کو ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم اپنے ساتھیوں سمیت گھر سے دفتر جارہے تھے کہ کراچی کے علاقے عیسی نگری میں لیاری ایکسپریس وے پر خودکش حملے میں شہید ہوگئے تھے جنہیں کراچی کے گزری قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، قاتلانہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔