24 دسمبر، 2013

کراچی میں چہلم کے جلوسوں کے راستوں پر دھماکے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ماتمی جلوسوں کے راستوں پر ہونے والے تین دھماکوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔کراچی میں یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب شہر میں شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔پہلا دھماکہ کیپری سنیما کے قریب ایم اے جناح روڈ پر مرکزی جلوس کے راستے میں ہوا تاہم اس وقت تک جلوس اس جگہ نہیں پہنچا تھا اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے اشتہاری بورڈ کے کھمبے میں نصب تھا۔
جائے وقوعہ پر موجود کراچی پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شاہد حیات نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی مقدار کم تھی اور ایم اے جناح روڈ کی دوبارہ چیکنگ کی جا رہی ہے۔
اس دھماکے کے کچھ دیر بعد اورنگی ٹاؤن دس نمبر کے علاقے میں امام بارگاہ کے باہر دو دھماکے ہوئے۔
مومن آباد پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ ایک دھماکہ فٹ پاتھ پر جبکہ دوسرا موٹرسائیکلوں کی دکان میں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ دس زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
فوج اور رینجرز کے دستے حساس شہروں میں گشت کر رہے ہیں
ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دھماکے کی جگہ پر موجود ایک ایمبولینس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کراچی میں چہلمِ امام حسین کے موقع پر جلوسوں کے راستے کنٹینر لگا کر بند کیے گئے ہیں اور صوبائی محکمۂ داخلہ نے پورے صوبے میں ڈبل سواری پر پابندی لگا دی ہے۔
کراچی سمیت صوبے کے کئی شہروں میں موبائل سروس بھی معطل ہے جبکہ حساس اضلاع میں فوج بھی تعینات ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں