16 دسمبر، 2013

شیعہ مذہبی پیشوا کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

لاہور: ملتان کے شیعہ مذہبی پیشوا علامہ ناصر عباس، جنہیں کل بروز اتوار پندرہ دسمبر کی رات نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، ان کی نمازِ جنازہ آج لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے ادا کی جائے گی۔
پوسٹمارٹم کے بعد علامہ ناصر عباس کی میت کو جناح ہسپتال سے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ شادمان، قصرِ بتول میں منتقل کردیا گیا۔ پوسٹمارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ناصر عباس کو بندوق کی پانچ گولیاں لگی تھیں۔
تھانہ گارڈن ٹاؤن میں ناصر عباس کا مقدمہ رجسٹر کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق مقدمہ ناصرعباس کے ڈرائیور کی مدعیت میں دو نامعلوم موٹرسائیکل سواردہشت گردوں کے خلاف رجسٹر کیاگیا۔
دوسری جانب علامہ ناصر عباس کے قتل کے خلاف بطور احتجاج گورنر ہاوٴس کے سامنے دھرنا جاری ہے۔ واضح رہے کہ مظاہرین گزشتہ شب سے میت کے ساتھ گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، پولیس سے مذاکرات کے بعد علامہ ناصر عباس کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کردی گئی تھی، تاہم مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
علامہ ناصر عباس شاہ جمال میں مجلس پڑھ کرواپس گھر جا رہے تھے، اور وہ ان دنوں مجالس کے سلسلے میں لاہور میں ہی مقیم تھے۔ گھر جاتے ہوئے نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے علامہ ناصر عباس کی گاڑی پر فائرنگ کی، گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے، انہیں فوری طور پر شیخ زاید ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور دم توڑ گئے۔
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں