21 دسمبر، 2013

نہ کیل چا ہیے نہ ہتھو ڑی،مقنا طیس کے ذریعے چپکنے والا انوکھا فر نیچر

ایمسٹرڈیم…این جی ٹی…اب میز، کرسی اور الما ری بنا نے کے لیے کیل اور ہتھو ڑی کی ضر ورت نہیں ہے ۔ نیدر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیزائنر نے ایسا فر نیچر تیار کیا ہے جسے کیلو ں سے نہیں بلکہ مقنا طیس کے ذریعے جو ڑا جا تا ہے ۔یہ فر نیچر لو ہے اور لکڑی کے ملا پ سے تیار کیا گیا ہے جس کے جوڑوں میں مقنا طیس کے ٹکڑے فٹ کیے گئے ہیں ۔ اس کے مختلف حصوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ملانے سے یہ مقنا طیس کے مد د سے مضبو طی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جا تے ہیں اور یو ں کیلو ں اور ہتھو ڑی کے بغیر منٹو ں میں کو ئی بھی فرنیچر تیار کیا جاسکتا ہے ۔ اس فرنیچر کے با آ سا نی کھو ل کر ایک جگہ سے دو سر ی جگہ منتقل بھی کیا جاسکتا جبکہ دوبا ر ہ جو ڑنا بھی نہا یت آ سان ہے ۔

کتے اور ننھی بی مانو کی دو ستی کے انداز نرالے

لندن…سچ کہتے ہیں کہ دو ستی میں رنگ اور نسل کی کو ئی قید نہیں ہو تی اسی لیے تو یہ کتا اوربی مانو روایتی دشمن ہونے کے باوجود گہرے دو ست بن گئے ہیں ۔اٹکھیلیوں اور شرارتوں میں مصروف یہ ڈوگی اور بی مانو آپس میں اتنے گہرے دوست ہیں کہ کسی ایک کا بھی دوسرے کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔جہاں ایک طرف یہ بلی خود سے کئی گنا بڑے کتے سے خوفزدہ نہیں ہوتی تو دوسری جانب یہ کتا بھی اپنی ننھی سی دوست کے خوب نخرے اٹھاتا ہے اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔

مری :بس کھائی میں گر نے سے ایک بچہ جاں بحق،25افراد زخمی

راولپنڈی…مری کے علاقے تریٹ میں مری روڈ پر آرو کس کے مقام پر بس کھائی میں گر نے سے ایک ڈیڑھ سالہ بچہ جاں بحق جبکہ 25افراد زخمی ہوگئے۔ 15زخمیوں کو بس سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ نمائندہ جیو کے مطابق اسلام آباد سے مری جاتے ہوئے بس کو حادثہ بارش کی وجہ سے سڑک پر پیدا ہونے والی پھسلن کے سبب پیش آیاجبکہ مری روڈ پر کئی خطرناک موڑ بھی واقع ہیں جن میں سے ایک موڑ سے مڑتے ہوئے بس 40فٹ گہری کھائی میں جاگری۔بس میں لاہور کی ایک فیملی کے 25سے 30افراد سوار تھے جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اندھیرا اور سخت سرد موسم ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری پیش آرہی ہے۔ تاہم اب تک 15زخمیوں کو ہی کو بس سے نکالا جاسکا ہے۔زخمیوں میں سے زیادہ تر کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اور ٹریفک کا عملہ حادثے کی جگہ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔

Thai Opposition to Boycott Election

Thailand's main opposition Democrat Party has announced that it will boycott February's general election.

The party's leader, former prime minister Abhisit Vejjajiva, announced the boycott Saturday after a meeting of party executives. He said the decision was made to try to ensure political reforms are implemented.

Street protesters have been demanding for weeks that caretaker Prime Minister Yingluck Shinawatra step down ahead of the February 2 elections and hand over the government to an unelected "people's council."

Yingluck dissolved parliament on December 9 and called the snap poll in an attempt to defuse tensions, but opposition against her remains strong and a mass rally is due to take place in Bangkok Sunday.

Obama Discusses US Surveillance, Iran, Economy at Year-End News Conference


20 دسمبر، 2013

بنگلا دیش کے انتخابات :مظاہروں کے پیش نظرہزاروں فوجی تعینات

 
ڈھاکا…بنگلاد یش میں انتخابات میں مظاہروں کے پیش نظر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ بنگلادیشی حکام نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلا دیش میں 5جنوری کے انتخابات میں مظاہروں کے پیش نظر ہزاروں فوجی تعینات کردیے گئے ہیں۔

ہوا سے چلنے والی نایاب کار

ہوا کی طاقت سے چلنے والے انجن سے لیس اور لیگو سے بنی ایک کار اب آپ آسٹریلوی شہر ملبرن کی سڑکوں پر دیکھ سکتے ہیں۔
ایک آسٹریلوی تاجر اور رومینیا کے تکنیکشن کی تیار کردہ، 500000 لیگو پیسز کی بنی یہ کار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار تک پہنچ سکتی ہےعام لوگوں کی جانب سے مالی امداد کی مدد سے کیے گئے اس پروجیکٹ کا آغاز ایک ٹوئیٹ پر لوگوں سے ’ایک زبردست پروجیکٹ‘ سرمایہ کاری درخواست سے کیا گیا تھا۔
اس کار میں ہوا کے زور پر چلنے والے چار انجن لگے ہیں جن میں 256 پسٹن ہیں۔ اس کار میں سثائے پیوں کے ہر چیز لیگو سے بنی ہے۔
اس کار کے شریک موجد سٹیو سمارٹینو نے بی بی سی کو بتایا کہ نہ تو وہ گاڑیوں کا شوق رکھتے ہیں اور نہ ہی لیگو کا۔
وہ کہتے ہیں ’مجھے ٹیکنالوجی کا شوق ہے اور میں یہ دیکھانا چاہتا تھا کہ جب آپ ڈہین نوجوانوں اور عوامی مالی امداد سے کام کرتے ہیں تو کیا کیا ممکن ہے۔میں ایک پاگل سے رومینیا کے نوجوان سے انٹرنیٹ پر ملا جس کا یہ آئیڈیا تھا۔ مگر میں جانتا تھا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں خود یہ کر سکوں۔ ایک رات اس نے ٹوئیٹ بھیجی کہ کیا کوئی ایسے پروجیکٹ میں 500 سے 1000 ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جو بہت زبردست بھی ہے اور نایاب بھی۔‘
’یہ کار رومینیا میں تیار کی گئی اور پھر اسے آسٹریلیا بھیجا گیا جہاں اس کے بہت سے حصہوں کو دوبارہ بنانا پڑا۔‘
اس کے جواب میں 40 آسٹریلوی شہریوں نے امداد کی حامی بھری اور یہ پرواجیکٹ شروع ہو گیا۔
سمارٹینو نے بتایا کہ اس کار کو بنانے میں 18 ماہ لگے۔
’یہ کار رومینیا میں تیار کی گئی اور پھر اسے آسٹریلیا بھیجا گیا جہاں اس کے بہت سے حصہوں کو دوبارہ بنانا پڑا۔‘
ہم نے ملبرن کے ایک مضافاتی علاقے میں اسے چلایا ہے۔ اس کا انجن انتہائی نازک ہے اور ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کہیں اس کے پھٹنے سے ایک لیگو دھماکہ نہ ہو جائے۔
ابھی تک کو سمارٹینو کے ایسے مزید گاڑیاں بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
’گذشتہ چار ہفتے سے میں لیگو پیسز میں ڈوبا ہوا تھا اور میری انگلیوں میں اتنا درد ہے کہ میں ایک کار بنانے کا ابھی تو سوچ بھی نہیں سکتا۔‘
آٹو کار میگزین کے میٹ سانڈرز کہتے ہیں کہ ’یہ چیز بنانا ہی آسان نہیں، اسے چلانا تو دور کی بات ہے۔ اس کے اجن کے لیے کوئی زبردست تخلیاتی عمل کیا گیا ہوگا۔ تاہم یہ زیادہ آرام دے یا دور تک سفر کرنے والی کار معلوم نہیں ہوتی۔‘
‘